ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل ریلوے اسٹیشن پر کڑی نگرانی اور چوکسی: کیا کورنٹائن سے بچنے شیرور، بیندور اور کنداپور کے لوگ بھٹکل اسٹیشن پر اترتے ہیں ؟

بھٹکل ریلوے اسٹیشن پر کڑی نگرانی اور چوکسی: کیا کورنٹائن سے بچنے شیرور، بیندور اور کنداپور کے لوگ بھٹکل اسٹیشن پر اترتے ہیں ؟

Fri, 12 Jun 2020 18:51:33    S.O. News Service

بھٹکل:12؍جون (ایس اؤ نیوز) لاک ڈاؤن کے دوران  ڈھیل دیتےہوئے ریلوے سفر کو منظوری دینےکے بعد مہاراشٹرا سے ساحلی کرناٹکا کے لئے  لوگوں کی آمدشروع ہوگئی ہے۔ ایسے میں  اُڈپی، منگلورو اور بھٹکل  پہنچنے والے مسافروں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ساحلی پٹی پر کڑی چوکسی برتی جارہی ہے۔ اس  دوران سننے میں آرہا ہے کہ  پڑوسی ضلع  اُڈپی کے شیرور، بیندور اور کنداپور  جانے والے مسافر بھٹکل ریلوے اسٹیشن پر ہی اُتررہے ہیں اس تعلق سے اُڈپی میں کورونا کے بڑھتے معاملات کو لے کر  بھٹکل کے عوام میں ایک طرف تشویش پائی جارہی ہے تو وہیں پڑوسی ضلع کے لوگ بھٹکل میں اُترنے سے مقامی آفسران بھی پریشان ہیں۔

حالات کے متعلق بھٹکل تحصیلدار ایس روی چندر نے بتایا کہ مہاراشٹراسے جیسے ہی ریل سرویس شروع ہوئی تو ہم چوکسی برت رہے ہیں، کسی کو خوف کھانےکی ضرورت نہیں ہے۔ ’’بدھ کی رات پڑوسی ضلع اُڈپی کے 9مسافر بھٹکل ریلوے اسٹیشن پر ہی اترے تھے۔ انہیں تحویل میں لے کر محکمہ تحصیل کے افسران نے اُن کی جانچ کی ۔ اس کے بعد ایمبولنس کے ذریعے انہیں ان کے گاؤں بھیجا گیا۔ اور اس سلسلےمیں وہاں کے متعلقہ افسران کو بھی جانکاری دی گئی ہے‘‘۔

 اڈُپی ضلع میں  مہاراشٹرا  سےآنے والوں کو کوارنٹائن میں رکھنا ضلع انتظامیہ کی ترجیحات میں سے ہے۔کیونکہ مہاراشٹرا سے لوٹنے والوں میں ہی سب سے زیادہ کورونا  کے معاملات سامنے آرہے ہیں۔ ایسے میں مہاراشٹرا سے لوٹنے والوں کی کڑی نگرانی کے لئے  ٹرینوں کو بھٹکل اسٹیشن کے بعد سیدھے اُڈپی اسٹیشن میں ہی رُکنے کے احکامات دئے گئے ہیں اور  بیندور اور کنداپور میں اسٹاپ نہیں دیا جارہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مہاراشٹرا سے  آنے والوں  کو اُڈپی اسٹیشن میں ہی روک کر انہیں سیدھے کورنٹائن میں بھیجا جارہاہے۔ ایسے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ بھٹکل اسٹیشن میں ہی اُترکر کورنٹائن سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن بعض مسافروں نے بتایا کہ وہ کورنٹائن سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ شیرور اور بیندور بھٹکل کے بالکل  قریب ہیں  اور اُڈپی اسٹیشن اُن کے علاقہ سے کافی دور ہے، اس لئے جلدی گھر پہنچنے کے چکر میں  بھٹکل اسٹیشن میں اُترنے کو  ترجیح دے رہے ہیں۔بھٹکل اسٹیشن میں اُترکر وہ آٹو یا اپنے گھر سے گاڑی منگوا کر جلد ہی اپنے  گھر پہنچ سکتے ہیں۔

اب ان لوگوں کا بھٹکل اسٹیشن پر اُترنا آفسران کے لئے درد سر بن گیا ہے کیونکہ انہیں پہلے سیدھے  بھٹکل تعلقہ اسپتال لے جانا پڑتا ہے، پھر اُن کی ضروری جانچ کے بعد  وہاں سے  ایمبولنس پر شیرور اور بیندور لے جاکر چھوڑنا پڑتا ہے۔


Share: